نئی دہلی، 7؍مئی(ایس او نیوز؍پریس ریلیز) طلاق احسن (صرف ایک طلاق) اور طلاق حسن لیکن عورتوں کو پیش آنے والے ماہانہ فطری عذر کے فاصلہ کے ساتھ تین طلاق کو ممنوع قرار دینے کے سلسلہ میں سپریم کورٹ میں جو درخواست دائر کی گئی ہے اور اخبارات میں اس کا ذکر آیا ہے، اس پس منظر میں ویلفیئر پارٹی آف انڈیاکے صدر جناب ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس صاحب نے بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ کورٹ نے ابھی اس پر کوئی نوٹس جاری نہیں کیا ہے تاہم مسلم پرسنل لا بورڈ کے وکلاءاس سلسلہ میں پہلے سے متحرک ہیں اور فیصلہ کی مصدقہ نقل حاصل کی جارہی ہے، اس پٹیشن کا مطالعہ اور تجزیہ کے بعدمناسب قدم اٹھایا جائے گا۔
ڈاکٹر الیاس نے کہا کہ شریعت اسلامی میں بھی کسی مناسب اور جائز سبب کے بغیر طلاق کو نا پسند کیا گیا ہے لیکن جیسے نکاح ایک ضرورت ہے اگر شوہر بیوی کے تعلقات آپس میں خراب ہو جائیں اور خوشگوار زندگی نا خوشگوار صورت حال میں بدل جائے تو اس رشتے کوختم کرنا ایک سماجی ضرورت بن جاتی ہے تاکہ دونوں نئی زندگی شروع کرسکیں ،خاص کر عورتوں کے لئے اس کی بڑی اہمیت ہے، دنیا کے جن مذاہب اور قوانین میں طلاق کا اختیار صرف عدالت کے ہاتھ میں رکھا گیا ہے، ان میں عورتوں کے لئے طلاق حاصل کرنا بہت دشوار ہو جاتا ہے اور شوہر و بیوی کے آپسی علیحدگی پر راضی ہوجانے کے باوجود رشتہ نکاح کو ختم کرنے میں بہت دشواری پیش آتی اور کافی مدت لگ جاتی ہے، لہذا مرد کو طلاق کے معاملہ میں مکمل طور پر بے اختیار کر دینا مردوں ہی کے لئے نہیں بلکہ مردوں سے بڑھ کر عورتوں کے لئے نقصاندہ ہے۔